MOJ E SUKHAN

تو ہم سے مل تو تجھ کو حال دل اپنا سنا ڈالیں

غزل

تو ہم سے مل تو تجھ کو حال دل اپنا سنا ڈالیں
کہے تو جام میں خون جگر اپنا ملا ڈالیں

ترس کھا مجھ پہ اور وقت جنوں یوں نہ رلا مجھ کو
وگرنہ آنسوؤں سے اپنے تیرا غم جلا ڈالیں

حواسوں میں ہمارے اس کو اب تو زندہ رہنے دے
کہیں ایسا نہ ہو ہر لمحہ خوشیاں ہم بھلا ڈالیں

بدلنے کے لئے کیوں رنگ تجھ کو اتنی عجلت ہے
ہمیں ڈر ہے نشان مثل تیری ہم مٹا ڈالیں

جگا رکھا ہے نیندوں کو ہماری جانے برسوں سے
تو ہو سکتا ہے خوابوں کو ہی تیرے ہم سلا ڈالیں

سمیٹا ہے تجھے خود میں ہمیشہ پھولوں کی مانند
کہیں ایسا نہ ہو زخموں کو تیرے ہم کھلا ڈالیں

پروین شغف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم