MOJ E SUKHAN

تکلفات میں لمحات مت گنوایا کر

غزل

تکلفات میں لمحات مت گنوایا کر
بلا ارادہ بھی تھوڑا سا مسکرایا کر

ہمارے سامنے یہ وضع مت بنایا کر
فراخ دل ہے تو ہر بات بھول جایا کر

ہمارے شعر ترا ذکر بات ایک ہی ہے
ہمارے شعر ہمیں یاد مت دلایا کر

طبیعتوں کی روانی نہ جانے کیا دکھلائے
کسی کے ظاہری احوال پر نہ جایا کر

کسی کو یہ لب و لہجہ بھلا لگا ہے نسیمؔ
غزل بھی تو اسی انداز میں سنایا کر

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم