MOJ E SUKHAN

تھا عبث خوف کہ آسیب گماں میں ہی تھا

تھا عبث خوف کہ آسیب گماں میں ہی تھا
مجھ میں سایہ سا کوئی اور کہاں میں ہی تھا

سب نے دیکھا تھا کچھ اٹھتا ہوا میرے گھر سے
پھیلتا اور بکھرتا وہ دھواں میں ہی تھا

سچ تھا وہ زہر گوارا ہی کسی کو نہ ہوا
تلخی ذائقۂ کام و زیاں میں ہی تھا

خود ہی پیاسا تھا بھلا پیاس بجھاتا کس کی
سر پہ سورج کو لئے ابر رواں میں ہی تھا

در پہ اک قفل پر اسرار پڑا تھا فرخؔ
بھید کھلتا بھی تو کیسے کہ مکاں میں ہی تھا

فرخ جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم