MOJ E SUKHAN

تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میں

تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میں
نئی سحر کے چراغوں کا کارواں ہوں میں

ہوائیں میرے ورق لوٹ لوٹ دیتی ہیں
نہ جانے کتنے زمانوں کی داستاں ہوں میں

ہر ایک شہر نگاراں سمجھ رہا ہے مجھے
ذرا قریب سے دیکھو دھواں دھواں ہوں میں

کسی سے بھیڑ میں چہرہ بدل گیا ہے مرا
تو سارے آئنہ خانوں سے بد گماں ہوں میں

میں اپنی گونج میں کھوئی ہوں ایک مدت سے
مجھے خبر نہیں کچھ کون ہوں کہاں ہوں میں

خود اپنی دید سے محروم ہے نظر میری
ازل سے صورت نظارہ درمیاں ہوں میں

مرا وجود و عدم راز ہے ہمیشہ سے
وہاں وہاں بھی نہیں ہوں جہاں جہاں ہوں میں

عزیز بانو دراب وفا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم