MOJ E SUKHAN

تھکن کا بوجھ بدن سے اتارتے ہیں ہم

تھکن کا بوجھ بدن سے اتارتے ہیں ہم
یہ شام اور کہیں پر گزارتے ہیں ہم

قدم زمین پہ رکھے ہمیں زمانہ ہوا
سو آسمان سے خود کو اتارتے ہیں ہم

ہماری روح کا حصہ ہمارے آنسو ہیں
انہیں بھی شوق اذیت پہ وارتے ہیں ہم

ہماری آنکھ سے نیندیں اڑانے لگتا ہے
جسے بھی خواب سمجھ کر پکارتے ہیں ہم

ہم اپنے جسم کی پوشاک کو بدلتے ہیں
نیا اب اور کوئی روپ دھارتے ہیں ہم

رمزی آثم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم