MOJ E SUKHAN

تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی

غزل

تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی
اس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کی

تو نے جو درد کی دولت ہمیں دی تھی اس میں
کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی

زاویہ کیا ہے جو کرتا ہے تجھے سب سے الگ
کیوں ترے بعد کسی اور کی حسرت نہیں کی

آئے اور آ کے چلے بھی گئے کیا کیا موسم
تم نے دروازہ ہی وا کرنے کی ہمت نہیں کی

اپنے اطوار میں کتنا بڑا شاطر ہوگا
زندگی تجھ سے کبھی جس نے شکایت نہیں کی

ایک اک سانس کا اپنے سے لیا سخت حساب
ہم بھی کیا تھے کبھی خود سے بھی مروت نہیں کی

ظفر گورکھ پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم