MOJ E SUKHAN

تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری

تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری
وہ شہر کیا ہوا جس کی تھی ہر گلی میری

میں اپنی ذات کی تشریح کرتا پھرتا تھا
نہ جانے پھر کہاں آواز کھو گئی میری

یہ سرگزشت زمانہ یہ داستان حیات
ادھوری بات میں بھی رہ گئی کمی میری

ہوائے کوہ ندا اک ذرا ٹھہر کہ ابھی
زمانہ غور سے سنتا ہے ان کہی میری

میں اتنے زور سے چیخا چٹخ گیا ہے بدن
پھر اس کے بعد کسی نے نہیں سنی میری

یہ درمیاں کا خلا ہی مرا نہیں ورنہ
یہ آسمان بھی میرا زمین بھی میری

کسے خبر کہ گہر کیسے ہاتھ آتے ہیں
سمندروں سے بھی گہری ہے خامشی میری

کوئی تو آئے مرے پاس دو گھڑی بیٹھے
کہ کر گئی مجھے تنہا خود آگہی میری

کبھی کبھی تو زمانہ رہا نگاہوں میں
کبھی کبھی نظر آئی نہ شکل بھی میری

مجھے خبر ہے کہاں ہوں میں کون ہوں اخترؔ
کہ میرے نام سے صورت گری ہوئی میری

اختر ہوشیار پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم