MOJ E SUKHAN

تہی امید مجھے روکنا ہے خو کس کی

غزل

تہی امید مجھے روکنا ہے خو کس کی
بہ ایں صدائے قدم ہے نداۓ ہو کس کی

یہ کون تیرے سوا کر سکا اداس مجھے
ترے خیال نے چھیڑی تھی گفتگو کس کی

میں مطمئن ہوں اسی خواب خواب صحرا میں
اڑا رہا ہوں مگر خاک آرزو کس کی

کوئی پرند اڑا پیپلوں کے جھرمٹ سے
بکھیرتا گیا چیخیں چہار سو کس کی

حد نگاہ تلک رات کا خلا ہے عرشؔ
کوئی نگاہ کرے بھی تو جستجو کس کی

آکاش عرش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم