غزل
تہی امید مجھے روکنا ہے خو کس کی
بہ ایں صدائے قدم ہے نداۓ ہو کس کی
یہ کون تیرے سوا کر سکا اداس مجھے
ترے خیال نے چھیڑی تھی گفتگو کس کی
میں مطمئن ہوں اسی خواب خواب صحرا میں
اڑا رہا ہوں مگر خاک آرزو کس کی
کوئی پرند اڑا پیپلوں کے جھرمٹ سے
بکھیرتا گیا چیخیں چہار سو کس کی
حد نگاہ تلک رات کا خلا ہے عرشؔ
کوئی نگاہ کرے بھی تو جستجو کس کی
آکاش عرش