MOJ E SUKHAN

تیری اس رہگزر پہ کہاں ہے نشاں

غزل

تیری اس رہگزر پہ کہاں ہے نشاں
میں تجھے ڈھونڈوں اب ہر جگہ ہر جہاں

مل سکا سایہ تیرا نہ تُو اب یہاں ہے
میں تو ہوں یونہی بے بس بہت بیکراں

اب دعاؤں میں میری رہے تُو ہی تُو
یونہی تیرا مقدّر رہے ضو فشاں

نام ہو تیرا اُونچا جہاں بھر میں ہی
ہیں دعائیں مِری عمر ہو جاوداں

مل سکیں عظمتیں ، نیک نامی تجھے
وسعتوں کو تُو چھوئے یہاں ہر زماں

زیست کی ہر خوشی مل سکے تجھ کو ہی
اٹکی ہے تجھ میں پیاری ثمر میری جاں

ثمرین ندیم ثمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم