غزل
تیری اس رہگزر پہ کہاں ہے نشاں
میں تجھے ڈھونڈوں اب ہر جگہ ہر جہاں
مل سکا سایہ تیرا نہ تُو اب یہاں ہے
میں تو ہوں یونہی بے بس بہت بیکراں
اب دعاؤں میں میری رہے تُو ہی تُو
یونہی تیرا مقدّر رہے ضو فشاں
نام ہو تیرا اُونچا جہاں بھر میں ہی
ہیں دعائیں مِری عمر ہو جاوداں
مل سکیں عظمتیں ، نیک نامی تجھے
وسعتوں کو تُو چھوئے یہاں ہر زماں
زیست کی ہر خوشی مل سکے تجھ کو ہی
اٹکی ہے تجھ میں پیاری ثمر میری جاں
ثمرین ندیم ثمر