MOJ E SUKHAN

تیری نظروں میں معتبر نہ ہوئی

غزل

تیری نظروں میں معتبر نہ ہوئی
میں معطر ہوئی مگر نہ ہوئی

حال دنیا پہ کھل گیا میرا
ایک بس آپ کو خبر نہ ہوئی

زندگی ریزہ ریزہ ہو کر بھی
آج تک گرد رہ گزر نہ ہوئی

تو سفر کار تھا سفر میں رہا
میں ترے پاؤں میں ڈگر نہ ہوئی

تیرے دل تک چلی نہیں آئی
اپنی بھی ذات کی مگر نہ ہوئی

تیری یادیں تھیں میرے ساتھ مگر
ہجر کی رات مختصر نہ ہوئی

کیے روشن کئی چراغ دعا
روشنی پھر بھی بام پر نہ ہوئی

دعا علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم