MOJ E SUKHAN

تیری یادیں بحال رکھتی ہے

غزل

تیری یادیں بحال رکھتی ہے
رات دل پر وبال رکھتی ہے

شب غم کی یہ راگنی بن میں
بانسری جیسی تال رکھتی ہے

دل کی وادی سے اٹھنے والی کرن
وحشتوں کو اجال رکھتی ہے

بام و در پر اترنے والی دھوپ
سبز رنگ ملال رکھتی ہے

شام کھلتی ہے تیرے آنے سے
لب پہ تیرا سوال رکھتی ہے

ایک لڑکی اداس صفحوں میں
اک جزیرہ سنبھال رکھتی ہے

آخری دیپ کی لرزتی لو
مہر و مہ سا جمال رکھتی ہے

عاصمہ طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم