MOJ E SUKHAN

تیری یادیں بھی نہیں غم بھی نہیں تو بھی نہیں

تیری یادیں بھی نہیں غم بھی نہیں تو بھی نہیں
کتنی ویران ہے یہ آنکھ کہ آنسو بھی نہیں

میرے دل کو مرے احساس کو چھو جاتی تھی
بھیگے بھیگے ترے بالوں کی وہ خوشبو بھی نہیں

ہائے وہ پہلے پہل تیری جدائی کی گھڑی
اب تو پینے کی کوئی چاہ کوئی خو بھی نہیں

جو غم دہر کی راہوں کو حسیں تر کر دے
بہکے بہکے ترے قدموں کا وہ جادو بھی نہیں

اب گنہ گار نظر کی ہے کہاں جائے پناہ
راہ میں دور تلک کوئی پری رو بھی نہیں

یوسف تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم