تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا حلوہ پوری ابھی بھی چلتی ہے
میٹھی روٹی بھی گھر میں بنتی ہے
اب بھی جب میں کچن میں جاتی ہوں
کیسٹ نصرت فتح کی چلتی ہے
آج بھی جب حنا لگاتی ہوں تیز مہندی ابھی بھی رچتی ہے
آج بھی رنگ سارے رنگوں میں من کو بھاتا ہے آج بھی کالا
آج بھی جب کسی کی شادی میں مجھ کو جانا ہو دور وادی میں
پہلے جیسا ہی میں سنورتی ہوں آج بھی ایک ہاتھ میں میرے
ایک چُوڑی ہمیشہ رہتی ہے بِندیا اب بھی بہت چمکتی ہے
چوڑی بھی ہاتھ میں کھنکتی ہے کان میں بالیاں وہی ہیں ابھی
تم نے عیدی میں چُھپ کی بھیجی تھیں جن کے ہلنے سے چاند بنتا تھا
سن کے تیری کوئ بھی سرگوشی جُھمکا گالوں سے جا کے لگتا تھا
آج بھی ڈائری شروع تم سے ہاں میری شاعری شروع تم سے
آج بھی نام تیرا لے لے کے کتنی ڈھیروں دُعائیں کرتی ہوں
آج بھی چاند جیسےگرہن ہو تیرا صدقہ نکال لیتی ہوں
پڑھ کے جو یاد ہیں دعائیں سبھی تیرے اوپر سے وار دیتی ہوں
زندگی سے گلہ ہے اب بھی مجھے کون سا تُو ملا ہے اب بھی مجھے
آج بھی پاس میرے رکھے ہیں تیرے لکھے ہوۓ خطوط کئ
جو کبھی پیار کی کسی رو میں بہہ کے تو نے کیۓ تھے دان مجھے
پھول اب بھی وہ سارے تازہ ہیں جن کو بھیجا تھا چُوم کر تو نے
پھول گجرے وہ سب مہکتے ہیں میرے کمرے میں رقص کرتے ہیں
بات کرتے ہوۓ ہزار دفعہ اب بھی آنکھیں میں پٹپتاتی ہوں
سارا دن سوچ سوچ کے تجھ کو نیند میں اب بھی بُڑ بُڑاتی ہوں
عادتیں اب بھی پہلے جیسی ہیں روتے روتے میں ہنس بھی پڑتی ہوں
ہنستے ہنستے میں رو بھی جاتی ہوں بے خوابی بہت ستاتی ہے
یاد تیری ابھی بھی آتی ہے خواب جو جاگتے میں دِکھتے ہیں
وہی رہ رہ کے مجھ کو ڈستے ہیں
رات کے پچھلے پہر آج بھی جب بے سبب آنکھ میری کُھلتی ہے
مجھ کو لگتا ہے تیرا سر ہے یہاں بیٹھے بیٹھے یہ ٹانگ ہلتی ہے
خواب میں آج بھی وہیں خود کو روتی اکثر دکھائ دیتی ہوں
جس جگہ شام کو ٹہلتے تھے تجھ کو جا کے دُہائ دیتی ہوں
آج بھی زندگی سے ہاری ہوں آج بھی یار میں تمہاری ہوں
لوگ کہتے ہیں وقت گزرے گا بھول جاؤ گی تم بھی گھاؤ کبھی
اِتنے برسوں سے جل رہے ہیں جو دل میں اِس پیار کے الاؤ سبھی
جانے وقت کیوں نہیں گزرتا ہے میرے اندر کوئ سسکتا ہے
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا تجھ کو سوچوں تو اب بھی جیتی ہوں
زخمِ دل اب بھی چُھپ کے سِیتی ہوں
یہ نا سمجھو کہ روگ ہے مجھ کو تیرے جانے کا سوگ ہے مجھ کو
اب بھی دُکھ سُکھ میں پہلے نمبر پر زندگی تیرا نام لیتی ہے
تجھ کو پاگل وہ یاد کب ہوگی جو تجھے سوچ سوچ جیتی ہے
ترے جانے سے کچھ نہیں بدلا ویسے زندہ ہوں پھر بھی ہوں مُردہ
تاجور شکیل