MOJ E SUKHAN

تیرے در پر گُناہ گار آئے

تیرے در پر گُناہ گار آئے
تیرے در پر ہیں شرمسار آئے

کعبہ پر جب پڑی تھی پہلی نظر
اشک آنکھوں میں بے شُمار آئے

یا الہیٰ ہو مُجھ پہ نظرِ کَرَم
میرے گُلشن میں بھی بہار آئے

میں حَرَم میں رہوں مِری یہ مجال ،
آنکھ میں نیند کا خُمار آئے ؟

خوش نصیبی ہے کہ حَرَم میں ہم
چار دن چَین کے گُزار آئے

پھِر بُلاوا ہو میرا یا اللہ
دن خوشی کا یہ بار بار آئے

جب بھی کعبہ کو دیکھوں میں “شہناز”
رب پہ بے اختیار پیار آئے

شہناز رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم