MOJ E SUKHAN

تیرے رہنے کو مناسب تھا کہ چھپر ہوتا

تیرے رہنے کو مناسب تھا کہ چھپر ہوتا
کہ نہ چوکھٹ تری ہوتی نہ مرا سر ہوتا

قسمت نجد کا گر قیس کمشنر ہوتا
لیڈی لیلیٰ کی ہوا خوری کو موٹر ہوتا

غیر مل جل کے اٹھا لیتے کہ تھے بے غیرت
گو پہاڑ آپ کے احسان کا چھپر ہوتا

چائے میں ڈال کر عشاق اسے پی جاتے
در حقیقت لب معشوق جو شکر ہوتا

ملک الموت پہ جھلنے کو بناتا میں چنور
طائر روح کی دم میں جو کوئی پر ہوتا

لے ہی لیتا لب دلدار کا بوسہ اڑ کر
کاش عاشق جو بنایا تھا تو مچھر ہوتا

ٹھوکریں غیر کے مرقد پہ لگاتا کیوں کر
بوٹ کی جا پہ جو تو پہنے سلیپر ہوتا

چاٹتا ساری کتابوں کو بغیر از دقت
علم کا شوق جسے ہے جو وہ جھینگر ہوتا

پاس کرتا رزولیوشن کہ حسینوں پہ ہو ٹیکس
میں کبھی میونسپلٹی کا جو ممبر ہوتا

لکھنؤ سے شب یکشنبہ بریلی آتے
پاؤں میں گر نہ ظریفؔ اپنے سنیچر ہوتا

ظریف لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم