MOJ E SUKHAN

تیرے شہر میں

⭐تیرے شہر میں

زندگی نے کیسا یہ موڑ دیا
تیرے شہر میں لا کے چھوڑ دیا
گمنام طویل رستے ہیں
لمبی لمبی مسافتیں ہیں
نظریں ہر سمت تیری
متلاشی ہیں
تنہا سفر ہے
اِک خوف اک ڈر ہے
تنہا یہ مسافت ہے
عمر بھر کی ریاضت ہے
وہی مستقل خامشی
بے کار سی آس
چاہے دور رہے یا پاس
رہے جی مستقل اُداس !

معظمہ نقویؔ۔

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم