MOJ E SUKHAN

تین رنگوں سے مرے رنگ میں آئی ہوئی آگ

تین رنگوں سے مرے رنگ میں آئی ہوئی آگ
ہے مرے چاروں طرف اپنی لگائی ہوئی آگ

تم چراغوں پے جمی برف کے معبود چراغ
میں اسی برف کے معبد سے چرائی ہوئی آگ

لمس در لمس گھٹی روشنی تقسیم ہوئی
دیپ سے دیپ جلا اور پرائی ہوئی آگ

آگ میں صرف ہوئے میرے سنائے ہوئے شعر
تو تمھیں کیسی لگی میری لگائی ہوئی آگ

آ گئی آگ کی تصویر مرے کینوس تک
جل گیا دیکھ کے میں اپنی بنائی ہوئی آگ

آگ حشرات نگل جاتی ہے دیکھا تم نے
تم نے دیکھی کبھی حشرات کی کھائی ہوئی آگ؟

ہے الگ آگ جو سینے میں چھپائی ہوئی ہے
اور جدا ہے مری آنکھوں کی بہائی ہوئی آگ

عمار اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم