MOJ E SUKHAN

تیور بھی دیکھ لیجئے پہلے گھٹاؤں کے

تیور بھی دیکھ لیجئے پہلے گھٹاؤں کے
پھر بادبان کھولیے رخ پر ہواؤں کے

تم ساتھ ہو تو دھوپ بھی مجھ کو قبول ہے
تم دور ہو تو پاس بھی جاؤں نہ چھاؤں کے

خود ہی چراغ وعدہ بجھا دے جو ہو سکے
یہ حوصلے بھی دیکھ لے میری وفاؤں کے

لوگ اپنا مدعائے دلی کہہ کے جا چکے
مضمون سوچتے رہے ہم التجاؤں کے

مجھ کو ہر ایک شرط سفر کی قبول ہے
کانٹے نکال دے کوئی بس میرے پاؤں کے

کانوں میں جیسے کوئی شہد گھول دے ظہورؔ
کتنی مٹھاس ہوتی ہے لہجے میں ماؤں کے

ظہور الاسلام جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم