MOJ E SUKHAN

جائز ہے ہر اک حربہ اس وقت سیاست میں

غزل

جائز ہے ہر اک حربہ اس وقت سیاست میں
پتھر کا بیاں لے لو شیشے کی عدالت میں

لفظوں سے جدا ہو کر اک لفظ ہوا تنہا
فرسودہ خیالوں کی مقبوضہ ریاست میں

نکلا تھا جلوس اپنے تاریک مقدر کا
معزول تمدن کی مفلوج قیادت میں

عفریت عداوت کا ہر وقت ڈراتا تھا
ہم لوگ مقید تھے وحشت کی عمارت میں

چہرے پہ عیاں اس کے منظر تھا پلاسی کا
نکلا تھا وہ عظمت کے لشکر کی حمایت میں

پل بھر میں جلایا تھا عصیاں کے پہاڑوں کو
یہ سوز نہاں کیسا تھا اشک ندامت میں

یہ دور خرد جامیؔ جذبوں سے ہوا عاری
ہر جسم پگھلتا ہے سائے کی رفاقت میں

عبدالمتین جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم