MOJ E SUKHAN

جادۂ مے پہ گزر خوابوں کا

غزل

جادۂ مے پہ گزر خوابوں کا
مڑ گیا سیل کدھر خوابوں کا

زندگی عظمت حاضر کے بغیر
اک تسلسل ہے مگر خوابوں کا

ظلمتیں وحشت فردا سے نڈھال
ڈھونڈھتی پھرتی ہیں گھر خوابوں کا

قریۂ ماہ سے اس بستی تک
روز ہوتا ہے گزر خوابوں کا

صبح نو روز بھی دل کش ہے عروجؔ
اس قدر رنج نہ کر خوابوں کا

عبدالرؤف عروج

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم