MOJ E SUKHAN

جانے کس موڑ پر میں نے دیکھا نہیں

جانے کس موڑ پر میں نے دیکھا نہیں
مڑ گیا ہم سفر میں نے دیکھا نہیں

تم کو معلوم ہو تو بتانا مجھے
رہ گئی میں کدھر میں نے دیکھا نہیں

وقت کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا اسے
وہ گیا پھر کدھر میں نے دیکھا نہیں

لے کے آیا تھا میرے لیے روشنی
جب گیا چھوڑ کر میں نے دیکھا نہیں

مل ہی جاتی کبھی کوئی منزل مجھے
اک قدم لوٹ کر میں نے دیکھا نہیں

تم گئے ساتھ اس کے جدھر بھی کہیں
تم سمجھنا ادھر میں نے دیکھا نہیں

پیار ہے کس قدر اس کو مجھ سے شبیؔ
چوڑیاں توڑ کر میں نے دیکھا نہیں

الماس شبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم