MOJ E SUKHAN

جاں فشانی کا واں حساب عبث

غزل

جاں فشانی کا واں حساب عبث
جو کہو اس کا ہے جواب عبث

ماہتاب اور کتاں کا عالم ہے
عارض دوست پر نقاب عبث

قفل در کی کلید نا پیدا
اب تمناے فتح باب عبث

زلف پر خم ہوا سے کیوں نہ ہلے
آپ کھاتے ہیں پیچ و تاب عبث

خط اسے بھیجنا ضرور مگر
دوست سے خواہش جواب عبث

میرے اشعار سب بیاضی ہیں
ہم نشیں فکر انتخاب عبث

ہے ہماری نظر میں حرمت مے
پیچش اہل احتساب عبث

یاں نہیں کفر‌ و دین خوف و رجا
لطف بے فائدہ عتاب عبث

نہ ثواب اس میں ہے نہ اس میں اثر
صبر بے ہودہ اضطراب عبث

وعدہ اس نے کیا تو کیا ناظمؔ
عبث اے خانماں خراب عبث

نواب یوسف علی خاں ناظم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم