MOJ E SUKHAN

جا رہے ہو تو کوئی ربط بنائے جاؤ

غزل

ہجر لازم ہے تو یہ ہجر نبھائے جاؤ
جا رہے ہو تو کوئی ربط بنائے جاؤ

جو بھی اس دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہو
کیسے ممکن ہے کتابو سے بھلائے جاؤ

شاید یہ طرز کسی روح میں گھر کر جائے
عین ممکن ہے کسی دل میں بسائے جاؤ

یہ مری رات بھی امید لگائے ہوئے ہے
اس کے دامن سے کوئی صبح لگائے جاؤ

گفتگو کرتے اگر ساتھ میں ہوتے کچھ دیر
جاتے جاتے مجھے اک شعر سنائے جاؤ

میری تخلیق کو آواز بنا دو ماہمؔ
میری تحریر کی خاموشی مٹائے جاؤ

ماہم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم