MOJ E SUKHAN

جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہے

غزل

جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہے
سرشت حسن میں اس درجہ دل کشی کیوں ہے

کسی کی سادہ جبیں کیوں بنی ہے سحر طراز
کسی کی بات میں اعجاز عیسوی کیوں ہے

کسی کی زلف معنبر میں کیوں ہے گیرائی
فدائے گیسوئے مشکیں یہ زندگی کیوں ہے

ترے شعار تغافل پہ زندگی قرباں
ترے شعار تغافل میں دل کشی کیوں ہے

کہیں ضیائے تبسم نہ ہو کرم فرما
جمود قلب میں ہیجان زندگی کیوں ہے

یہ کب کہا ہے کہ تم وجہ شورش دل ہو
یہ پوچھتا ہوں کہ دل میں یہ بیکلی کیوں ہے

نگاہ ناز کہ وابستۂ جگر تھی کبھی
بتا فریب تمنا کہ سرسری کیوں ہے

بھٹک بھٹک کے میں ناکام جستجو ہی رہا
خموش میرے لئے شمع رہبری کیوں ہے

حیات و موت نہ اپنی نہ میں ہی خود اپنا
مرے وجود پہ الزام زندگی کیوں ہے

رگ حیات میں دوڑا کے برق سرتابی
خطا معاف یہ الزام خود سری کیوں ہے

بساط دہر سہی جلوہ گاہ حسن ازل
نگاہ شوق فغاں سنج تشنگی کیوں ہے

حبیب احمد صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم