MOJ E SUKHAN

جب آنکھوں کو درپن کر کے حیرت سے تصویر کیا

غزل

جب آنکھوں کو درپن کر کے حیرت سے تصویر کیا
اس نے ڈھلتی عمر سے اڑتے جوبن کو زنجیر کیا

ان ہونٹوں کی لو سے روشن کی میں دن کی پیشانی
اور زلفوں کی صندلتا سے راتوں کو جاگیر کیا

اس دہکتے پنڈے سے، میں غصہ آگ جلائی اور
ان مخروطی بانہوں کو پھر دشمن پہ شمشیر کیا

ایک چھناکے سے ٹوٹی پھر مدوجذر کی انگڑائی
اونچی نیچی راہوں کا پھر خود کو میں رہگیر کیا

ایک گھمنڈی، جادوگر وہ, اور میں باغی شہزادہ
خود کو، خودکش صیفو کر کے، مجھ کو عکس_ میر کیا

ایتھر وانگ، طبیعت میری، اور وہ، پکی ٹونا ذات
ان ساحر آنکھوں سے خود کو مشکل سے تبخیر کیا

خود وہ مصلی’ بن بیٹھی تو مجھ پہ سجدہ واجب تھا
کھینچ وظیفہ مجھ سحری کو زم زم سا تقطیر کیا

خود کو خود پہ بھینٹ چڑھایا اشلوکوں کے شعلوں سے
ساوتری نے ستی ہو کر زاہد کو نخچیر کیا

زاہد حسین جوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم