MOJ E SUKHAN

جب اس کی سمت میں اپنا دھیان کر لوں گی

جب اس کی سمت میں اپنا دھیان کر لوں گی
پھر اس کے دل کو بہت مہربان کو لوں گی

کبھی جو اس نے مجھے پیار سے پکار لیا
میں اس کے نام کو ورد زباں کر لوں گی

جو ہو سکے تو مجھے لے چلو افق سے پرے
میں تیرے ساتھ یہ اونچی اڑان کر لوں گی

ترے خیال کی محفل ہو اور چائے ہو
تو شعر کہہ کے میں دل شادمان کر لوں گی

زباں پہ مہر ہے لیکن میں چپ رہوں گی نہیں
میں خامشی میں بھی سب کچھ بیان کر لوں گی

اتار کر کبھی زرغونے اک ستارے کو
زمین کو اپنی میں پھر آسمان کر لونگی

زرغونہ خالد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم