MOJ E SUKHAN

جب بھی آنکھوں نے تری دید کی حسرت کی ہے

جب بھی آنکھوں نے تری دید کی حسرت کی ہے
آ کے رخساروں سے اشکوں نے شکایت کی ہے

میرے پہلو سے نکل کر تو جدھر چاہے بکھر
گل نے خوش بو کو یہ آزادی عنایت کی ہے

باندھ لو رختِ سفر پیڑ کے سوکھے پتّو!
شہر میں آج ہواؤں نے بغاوت کی ہے

اے خزاں! آ کے نہ برباد مرا گلشن کر
میں نے افزائشِ گل میں بڑی محنت کی ہے

ہو کے برجستہ خرابے میں چلے آتے ہیں
حیسے اِس دل نے غموں کی کوئی دعوت کی ہے

تیرے ہاتھوں کی شرابوں میں نشہ ہوتا ہے
بادہ خواروں نے یہ ساقی سے شکایت کی ہے

ظہیر الدین شمس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم