MOJ E SUKHAN

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے

غزل

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے
زندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہے

دھوپ کے قہر کا ڈر ہے تو دیار شب سے
سر برہنہ کوئی پرچھائیں نکلتی کیوں ہے

مجھ کو اپنا نہ کہا اس کا گلا تجھ سے نہیں
اس کا شکوہ ہے کہ بیگانہ سمجھتی کیوں ہے

تجھ سے مل کر بھی نہ تنہائی مٹے گی میری
دل میں رہ رہ کے یہی بات کھٹکتی کیوں ہے

مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو مری وحشت کا سبب
بوئے آوارہ سے پوچھو کہ بھٹکتی کیوں ہے

شہریار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم