MOJ E SUKHAN

جب بھی یہ بات چلی ہے کہ خدا ہے کوئی

جب بھی یہ بات چلی ہے کہ خدا ہے کوئی
میری تصویر مجھے سونپ گیا ہے کوئی

سوچ پھر سوچ یہ معیار وفا ہے کوئی
کام آ جائے تو سمجھیں کہ خدا ہے کوئی

میری قسمت مرے ماتھے ہی پہ لکھ دی ہوتی
کھل تو جاتا کہ گنہ گار وفا ہے کوئی

آج سے عشق کی تاریخ بدل جائے گی
آئنہ لاؤ مجھے دیکھ رہا ہے کوئی

لوگ بیتاب ہیں تائید صداقت کے لئے
ایک آواز تو آئے کہ خدا ہے کوئی

فاصلوں میں کسی تفریق کا احساس نہ تھا
ایک ہوتے ہی یہ سمجھے کہ جدا ہے کوئی

اور کچھ تذکرۂ سوز تمنا انجمؔ
سب کو معلوم تو ہو تجھ سے ملا ہے کوئی

انجم فوقی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم