MOJ E SUKHAN

جب تلک نان ہے

جب تلک نان ہے
تب تلک جان ہے

سن تو سکتا نہیں
ایک ہی کان ہے

جیت کے دن تلک
ہار ارمان ہے

جو خدا نے دیا
سانس احسان ہے

تشنگی ہوش کر
لب پہ دربان ہے

یار خانی جو ہے
دل کا سلطان ہے

بن ترے جان من
گھر بھی سنسان ہے

جا اسے پوچھ وہ
کیوں پریشان ہے

تو زلیخہ نہیں
تو سلیمان ہے

دل کے گملے تلک
آنکھ گلدان ہے

سوچتے ہیں کہاں
لفظ وجدان ہے

بولنے دو اسے
زات چو ہان ہے

نیک دل جو بھی ہو
وہ مسلمان ہے

اے محبت ترا
آج امکان ہے

یار سن عشق تو
پل کا مہمان ہے

جھوٹ کو مار دو
عام اعلان ہے

اس کو شہرت ملے
دل کا ارمان ہے

سوچ کے عشق کر
اس میں نقصان ہے

تو بلا کون سا
دور ملتان ہے

آنکھ قاتل تھی ناں
اب کہ مسکان ہے

دل میں رہتی ہے وہ
دل تو ویران ہے

آدمی زات کا
کوہ سلمان ہے

دیکھ حافظ ہے وہ
دل میں قر آن ہے

سر اٹھا کر چلیں
قوم کی شان ہے

چال دیکھو زرا
زات کا خان ہے

اک بھی مشکل نہیں
پار آسان ہے

داستاں اسکی بھی
ایک دیوان ہے

شاعری کھیل ہے
شوق میدان ہے

آدمی رو پڑا
سن کے انسان ہے

بل نکلنے کو ہے
مونچھ کا تان ہے

آ گلے مل مجھے
تو بھی اعوان ہے

عشق ہی عشق کی
آن ہے بان ہے

ذندگی تو بتا
سانس تاوان ہے

راستے میں پڑا
کس کا سامان ہے

آنکھ بھی پر نمی
دل بھی حیران ہے

تو شرارت نہ کر
وہ تو شیطان ہے

پو چھتے ہو سنو !
زات اعوان ہے

شاعروں میں حسیں
ایک عر فان ہے

عرفان خانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم