Jab Tak tujhay ayee jaan e wafa janta no tha
غزل
جب تک تجھے اے جان_ وفا جانتا نہ تھا
تب تک جناب اپنا پتا جانتا نہ تھا
اتنا تو جانتا تھا وفا امتحان ہے،
لیکن وفا کی ایسی سزا جانتا نہ تھا.
میں جب بھی آپ ے آپ میں لوٹا تو دوستو
خود اپنے خونِ دل کا لکھا جانتا نہ تھا
وہ جل رہا تھا اسکو غرض روشنی سے تھی
کس کا لہو تھا اس میں! دیا جانتا نہ تھا۔
اک کشمکش تھی میرے وجود و خیال میں
کیا کشمکش تھی میں بخدا جانتا نہ تھا۔
یہ کیسا معاملہ تھا مرے اس کے درمیان
میں جانتا تھا میرا پیا جانتا نہ تھا۔
میں اس سے اپنے گھر پتا پوچھتا رہا!
جو شخص اپنے گھر کا پتا جانتا نہ تھا۔
پیر غلام مجدد سرہندی
Peer Ghulam Mujadid Sarhandi