MOJ E SUKHAN

جب رات کا آسیب بکھر جاتا ہے مجھ میں

غزل

جب رات کا آسیب بکھر جاتا ہے مجھ میں
اندر کوئی بچہ سا ہے ڈر جاتا ہے مجھ میں

دل پر کسی قدموں کے نشاں تک نہیں ملتے
یہ کون ہے تیزی سے گزر جاتا ہے مجھ میں

پھر خود ہی بجھا دیتا ہے قندیل شب غم
پھر خود ہی اچانک کہیں مر جاتا ہے مجھ میں

موجیں ہیں پریشاں مرے تالاب بدن کی
تو کیسی تھکن لے کے اتر جاتا ہے مجھ میں

اک زخم کو یہ رات بنا دیتی ہے سورج
اک درد علی الصبح ابھر جاتا ہے مجھ میں

مٹی کا گھڑا ہوں سو چٹخ جاؤں گا اک دن
بہنے سے زیادہ کوئی بھر جاتا ہے مجھ میں

اک لمس بنا دیتا ہے مجھ کو مرے جیسا
جب اس کی حرارت کا اثر جاتا ہے مجھ میں

قمر جہاں قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم