MOJ E SUKHAN

جب سے جنوں کو قائم بالذات کر لیا ہے

غزل

جب سے جنوں کو قائم بالذات کر لیا ہے
دنیا سے اپنے دل کو محتاط کر لیا ہے

میں کس کے غم سے اپنی تسکین کر رہا ہوں
کس کی نفی کو اپنا اثبات کر لیا ہے

اک شہر کو بڑھا کر جنگل بنا رہا ہوں
اک ابر کو گھٹا کر برسات کر لیا ہے

اچھی سی زندگی اب بازار سے خریدو
مرنے کا ساز و ساماں افراط کر لیا ہے

ماضی کے عرشؔ اب تک کیوں ساتھ چل رہے ہیں
کیا جانے میں نے ان کو کیوں ساتھ کر لیا ہے

آکاش عرش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم