MOJ E SUKHAN

جب سے لہو نے خود کو ملایا ہے آب میں

جب سے لہو نے خود کو ملایا ہے آب میں
تلخی نہیں رہی کوئی غم کی شراب میں

میں ڈھونڈتا ہوں اب تنِ خستہ کو بیٹھ کر
تھوڑی سی عمر رہ گئی اپنے حساب میں

پھر یوں ہوا کہ آنکھ کو اک بے کلی لگی
اک روشنی کو چین ملا جب حجاب میں

تم پوچھتے ہو داغ کی تفصیل لو سنو
سایا مرے وجود کا تھا ماہ تاب میں

دل مر مٹا یہ ذہن لٹا سانحہ ہوا
اک قطرہ خوں بہا نہیں اس انقلاب میں

ہم کس سے جاکے مانگے گے اس زیست کا حساب
جو زیست کٹ رہی ہے یہاں احتساب میں

گستاخ سخت طرزِ تکلم کے باوجود
رکھیں گے ہم تمہاری تمنا جواب میں


گستاخ بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم