MOJ E SUKHAN

جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میں

جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میں
انسان وہ کیا مر مٹنے کا احساس نہ ہو جس کے دل میں

ہنسنے کا طریقہ پیدا کر رونے کا سلیقہ پیدا کر
ہنس پھول کی صورت گلشن میں رو شمع کی صورت محفل میں

قاتل کے دل کی کمزوری نے سارا کام بگاڑ دیا
ہم تشنۂ شوق شہادت تھے خنجر بھی تھا دست قاتل میں

محفل کی محفل بے حس ہے طاری ہے جمود انسانوں پر
اٹھ سوز کا عالم برپا کر اور آگ لگا دے ہر دل میں

ہر قطرہ دریا بننے کو بیتاب دکھائی دیتا ہے
ہر موج رواں بے چین نظر آتی ہے فراق ساحل میں

سرشارؔ وہ کیوں کر کہتے ہیں ہم قوم و وطن کے خادم ہیں
ڈالے نہ گئے جو زنداں میں جکڑے نہ گئے جو سلاسل میں

جیمنی سرشار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم