Jab Meray Qabeelay kay tumhain Log milain Gay
غزل
جب میرے قبیلے کے تمہیں لوگ ملیں گے
آنکھوں میں بسیں گے تو کبھی دل میں رہیں گے
آؤ تو ذرا دیکھو وفا زادوں کی بستی
ہر کوچے میں یاں لوگ وفادار ملیں گے
اک پریم کی دیوی تھی جو کہلاتی تھی سسی
اس نام سے اک شہر کی بنیاد رکھیں گے
تعبیر میں کیا ہو گا یہ ہیں بعد کی باتیں
فی الحال تو ہم تیرے لیے خواب بنیں گے
اس عشق کی کھٹنائی سے اکتائے ہوئے لوگ
مر جائیں گے لیکن یہ محبت نہ کریں گے
مجھے لاج دلاری کا میری ماں کی دعا ہے
بہلانے کو دل ،چاند ستارے بھی جھکیں گے
زرغونے انا اپنی ہمیں جان سے پیاری
مٹ جائیں گے اس کا کبھی سودا نہ کریں گے
زرغونہ خالد
Zarghoona Khalid