MOJ E SUKHAN

جب میرے قبیلے کے تمہیں لوگ ملیں گے

Jab Meray Qabeelay kay tumhain Log milain Gay

غزل

جب میرے قبیلے کے تمہیں لوگ ملیں گے
آنکھوں میں بسیں گے تو کبھی دل میں رہیں گے

آؤ تو ذرا دیکھو وفا زادوں کی بستی
ہر کوچے میں یاں لوگ وفادار ملیں گے

اک پریم کی دیوی تھی جو کہلاتی تھی سسی
اس نام سے اک شہر کی بنیاد رکھیں گے

تعبیر میں کیا ہو گا یہ ہیں بعد کی باتیں
فی الحال تو ہم تیرے لیے خواب بنیں گے

اس عشق کی کھٹنائی سے اکتائے ہوئے لوگ
مر جائیں گے لیکن یہ محبت نہ کریں گے

مجھے لاج دلاری کا میری ماں کی دعا ہے
بہلانے کو دل ،چاند ستارے بھی جھکیں گے

زرغونے انا اپنی ہمیں جان سے پیاری
مٹ جائیں گے اس کا کبھی سودا نہ کریں گے

زرغونہ خالد

Zarghoona Khalid

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم