MOJ E SUKHAN

جب پاؤں ملا تھا تو رستے بھی نظر آتے

غزل

جب پاؤں ملا تھا تو رستے بھی نظر آتے
تم تک نہ سہی لیکن تا حد نظر جاتے

تم آنکھ نہیں رکھتے اور دیکھتے ہو سب کچھ
ہم آنکھ بھی رکھتے ہیں اور دیکھ نہیں پاتے

ہر راہ تو منزل تک لے جاتی نہیں سب کو
کچھ دیر ادھر چلتے کچھ دیر ادھر جاتے

پردہ وہ اٹھایا تو پردہ ہی نظر آیا
جب کچھ نہ نظر آیا تو کیوں نہ ٹھہر جاتے

یہ عشق نہیں یہ ہے کم بینی و کم عقلی
اک لطف تبسم پر اتنا نہیں اتراتے

جو ہو نہ جمیلؔ اپنا اوروں کا وہ کیا ہوگا
کیا کھاؤ گے غم میرا تم اپنا ہی غم کھاتے

جمیل مظہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم