MOJ E SUKHAN

جب پڑھائی کرتے کرتے بور ہو جاتا ہوں میں

جب پڑھائی کرتے کرتے بور ہو جاتا ہوں میں
داب کر بلا بغل میں فیلڈ پر آتا ہوں میں

پھر نہیں دنیا و ما فیہا کا کچھ رہتا خیال
کھیلتا جاتا ہوں میں بس کھیلتا جاتا ہوں میں

ڈیڈ پچ ہو یا سلو بالر تو میرے عیش ہیں
فاسٹ پچ اور تیز بالر ہو تو گھبراتا ہوں میں

ان کٹر آؤٹ کٹر سے ہو کے بالکل بے نیاز
بند کر کے آنکھ بس بلا گھما جاتا ہوں میں

جب میں چھکا مارتا ہوں اور وہ ہو جاتا ہے کیچ
اپنی اس دیوانگی پر جھینپ سا جاتا ہوں میں

فارورڈ جاتا ہوں میں گگلی اٹھانے کے لئے
عقب میں اپنے مگر وکٹیں گری پاتا ہوں میں

سینچری کا گرچہ لے کر دل میں جاتا ہوں خیال
لیکن اکثر لے کر انڈہ ہی پلٹ آتا ہوں میں

ہو کے اب محتاط میں کھیلوں گا اگلے میچ میں
ہر دفعہ یہ کہہ کے اپنے دل کو سمجھتا ہوں میں

عنایت علی خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم