MOJ E SUKHAN

جتنی بھی تیز ہو سکے رفتار کر کے دیکھ

جتنی بھی تیز ہو سکے رفتار کر کے دیکھ
پھر اپنی خواہشوں کو گرفتار کر کے دیکھ

دیوانہ ہے جنوں میں گزرتا ہی جائے گا
تو راستوں کو چاہے تو دیوار کر کے دیکھ

یوسف بھی ہے یہاں پہ زلیخائے وقت بھی
بس مصر کی سی گرمئ بازار کر کے دیکھ

اے محتسب روایت کہنہ کے نقش میں
تعمیر کرتا جاؤں گا مسمار کر کے دیکھ

شاید اسی میں سارے مسائل کا حل ملے
سردار ہے جو اس کو سر دار کر کے دیکھ

جاویدؔ گر ہے خواہش تسکین قلب و جاں
رخ اپنا جانب شہ ابرار کر کے دیکھ

جتنی بھی تیز ہو سکے رفتار کر کے دیکھ
پھر اپنی خواہشوں کو گرفتار کر کے دیکھ

دیوانہ ہے جنوں میں گزرتا ہی جائے گا
تو راستوں کو چاہے تو دیوار کر کے دیکھ

یوسف بھی ہے یہاں پہ زلیخائے وقت بھی
بس مصر کی سی گرمئ بازار کر کے دیکھ

اے محتسب روایت کہنہ کے نقش میں
تعمیر کرتا جاؤں گا مسمار کر کے دیکھ

شاید اسی میں سارے مسائل کا حل ملے
سردار ہے جو اس کو سر دار کر کے دیکھ

جاویدؔ گر ہے خواہش تسکین قلب و جاں
رخ اپنا جانب شہ ابرار کر کے دیکھ

ظہور الاسلام جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم