MOJ E SUKHAN

جدھر سے تیر چلا کوئی مہرباں نکلا

غزل

جدھر سے تیر چلا کوئی مہرباں نکلا
توقعات سے بڑھ کر وہ میزباں نکلا

ثمر سے پہلے شجر کاٹ کر جلا ڈالے
کہ جلدباز بہت اب کے باغباں نکلا

عجیب رنگ ہوا اب کے میری نگری کا
کہ جو بھی شہر میں نکلا وہ بے اماں نکلا

یہ کس عذاب نے بستی کو میری گھیر لیا
کہ چولھے سرد رہے یاں مگر دھواں نکلا

سوال یہ ہے سبب کس سے قتل کا پوچھیں
کہ جس نے قتل کیا وہ ہی بے زباں نکلا

ہمارے بعد بھی کیا زیب دار ہوگا کوئی
یہی سوال مرا زیب داستاں نکلا

ہم اپنی عقل کو الزام دیں کہ قسمت کو
ہمارے دور میں رہزن بھی پاسباں نکلا

جبیں جھکی تو زمیں اٹھ کے عاجزی سے ملی
جو سر اٹھا تو بہت دور آسماں نکلا

رہے ہیں ہم تو کرامتؔ گئے دنوں کے نقیب
کہ ہم سے عہد نیا سخت بد گماں نکلا

کرامت غوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم