MOJ E SUKHAN

جرم الفت کی سزا دینے لگے

جرم الفت کی سزا دینے لگے
لوگ ہم کو یوں دعا دینے لگے

چھوڑ دی ہم نے تمنا وصل کی
ہجر کے صدمے مزہ دینے لگے

قرب ِ جاناں میں جو کہ گزرے روزوشب
یاد جب آئے رلا دینے لگے

جب ہوا محو سفر میرا جنوں
علم و دانش راستہ دینے لگے

منتظر یوں ہیں کہ گھڑیاں رک گئیں
لمحے صدیوں کا پتہ دینے لگے

ان سے کیا امید منزل کیجئے
راسے میں جو دغا دینے لگے

جب کسی نے چاند سا ان کو کہا
وہ اسے بھی بدعا دینے لگے

ہم نے جب افسانہ ءِ دل کہہ دیا
زیر لب وہ مسکرا دینے لگے

ان کی آنکھوں میں جو خوابیدہ سے تھے
وہ ستارے اب ضیاء دینے لگے

ایک شب غم نے ٹھہرنا تھا یہیں
سب میرے گھر کا پتہ دینے لگے

ان کی آنکھیں نور سے چندھیا گئیں
ہم اندھیروں میں صدا دینے لگے

ہم جو ڈوبے تو ہمارے مہربان
ساحلوں سے مشورہ دینے لگے

ایک وہ ہیں بات تک کرتے نہیں
ایک ہم ہیں سر کٹا دینے لگے

سید الطاف بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم