جرم الفت کی سزا دینے لگے
لوگ ہم کو یوں دعا دینے لگے
چھوڑ دی ہم نے تمنا وصل کی
ہجر کے صدمے مزہ دینے لگے
قرب ِ جاناں میں جو کہ گزرے روزوشب
یاد جب آئے رلا دینے لگے
جب ہوا محو سفر میرا جنوں
علم و دانش راستہ دینے لگے
منتظر یوں ہیں کہ گھڑیاں رک گئیں
لمحے صدیوں کا پتہ دینے لگے
ان سے کیا امید منزل کیجئے
راسے میں جو دغا دینے لگے
جب کسی نے چاند سا ان کو کہا
وہ اسے بھی بدعا دینے لگے
ہم نے جب افسانہ ءِ دل کہہ دیا
زیر لب وہ مسکرا دینے لگے
ان کی آنکھوں میں جو خوابیدہ سے تھے
وہ ستارے اب ضیاء دینے لگے
ایک شب غم نے ٹھہرنا تھا یہیں
سب میرے گھر کا پتہ دینے لگے
ان کی آنکھیں نور سے چندھیا گئیں
ہم اندھیروں میں صدا دینے لگے
ہم جو ڈوبے تو ہمارے مہربان
ساحلوں سے مشورہ دینے لگے
ایک وہ ہیں بات تک کرتے نہیں
ایک ہم ہیں سر کٹا دینے لگے
سید الطاف بخاری