MOJ E SUKHAN

جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہے

غزل

جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہے
کوئی مقام ہو صحرا دکھائی دیتا ہے

نہ جانے کون ہے وہ وقت شام جو اکثر
گلی کے موڑ پہ بیٹھا دکھائی دیتا ہے

جو چاندنی میں نہاتے ہوئے بھی ڈرتا تھا
وہ جسم دھوپ میں جلتا دکھائی دیتا ہے

پہنچ رہی ہے جہاں تک نگاہ سڑکوں پر
نہ کوئی پیڑ نہ سایہ دکھائی دیتا ہے

کنار آب نہ بیٹھو کہ جھیل میں خاورؔ
تمہارا عکس بھی الٹا دکھائی دیتا ہے

بدیع الزماں خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم