MOJ E SUKHAN

جس در پہ ترا نقش کف پا نہ رہے گا

جس در پہ ترا نقش کف پا نہ رہے گا
رندوں کے لئے قابل سجدا نہ رہے گا

جاتا تو ہے اس جلوہ گہہ ناز میں اے دل
کیا ہوگا اگر ضبط کا یارا نہ رہے گا

پروانے کو پھونکا ہے تو اے شمع سمجھ لے
تیرا بھی کلیجہ کبھی ٹھنڈا نہ رہے گا

دیوانے کو زنجیر سے گہرا ہے تعلق
کیوں اس کو تری زلف کا سودا نہ رہے گا

پروردۂ طوفاں ہے مرے دل کا سفینہ
ساحل کی طرح یہ لب دریا نہ رہے گا

جھنجھلا کے کہا اس نے یہ آئینہ پٹک کر
منہ اس میں جو دیکھے گا وہ یکتا نہ رہے گا

مرنے کی اداؤں سے نہیں برقؔ جو واقف
رہتے ہوئے زندہ بھی وہ زندہ نہ رہے گا

رحمت الہی برقی اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم