MOJ E SUKHAN

جس دن سے اک آنے جانے والا روٹھ گیا ہے

جس دن سے اک آنے جانے والا روٹھ گیا ہے
مجھ سے میرے شہر کا رستا رستا روٹھ گیا ہے

تجھ سے اے کم بولنے والے سب سے دانا انساں
تیرا باتیں کرنے والا طوطا روٹھ گیا ہے

تیرا عذر قبول ہے, شام کا وعدہ بھولنے والے
لیکن تجھ سے شام کا پہلا تارا روٹھ گیا ہے

درپن درپن رک کر اپنی شوبھا دیکھنے والے
تجھ سے شاید تیرا اپنا چہرہ روٹھ گیا ہے

میں نےدکھ کے ہاتھ سےدامن کھینچاتھااور مجھ سے
میرے صاحب داس کبیر کا دوہا روٹھ گیا ہے

سعید صاحب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم