MOJ E SUKHAN

جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی

غزل

جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی
آج تک ہم سے یہی بس ایک نادانی ہوئی

سیکڑوں پردے اٹھا لائے تھے ہم بازار سے
گتھیاں کچھ اور الجھیں اور حیرانی ہوئی

ہم تو سمجھے تھے کہ اس سے فاصلے مٹ جائیں گے
خود کو ظاہر بھی کیا لیکن پشیمانی ہوئی

کیا بتائیں فکر کیا ہے اور کیا ہے جستجو
ہاں طبیعت دن بہ دن اپنی بھی سیلانی ہوئی

کیوں کھلونے ٹوٹنے پر آب دیدہ ہو گئے
اب تمہیں ہم کیا بتائیں کیا پریشانی ہوئی

آشفتہ چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم