MOJ E SUKHAN

جس شخص کو دیکھو اسے اپنی ہی پڑی ہے

جس شخص کو دیکھو اسے اپنی ہی پڑی ہے
دیوار کہاں ورنہ کوئی قد سے بڑی ہے

تیرے ہی لۓ سر پہ بٹھایا ہے وگرنہ
دنیا تو کبھی کی میرے قدموں میں پڑی ہے

لگتا ہے کسی روز دھماکے سے گرے گی
دیوار جو تنکے کے سہارے پہ کھڑی ہے

یوں ہی تو نہیں میرے چراغوں میں اجالا
اک روشنی سی دل کے فوارو سے جھڑی ہے

خانی یہ کہاں دیکھنے دیتی ہے کسی کو
جو گرد کسی آنکھ کے شیشے پہ پڑی ہے

ملک عرفان خانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم