جس شخص کو دیکھو اسے اپنی ہی پڑی ہے
دیوار کہاں ورنہ کوئی قد سے بڑی ہے
تیرے ہی لۓ سر پہ بٹھایا ہے وگرنہ
دنیا تو کبھی کی میرے قدموں میں پڑی ہے
لگتا ہے کسی روز دھماکے سے گرے گی
دیوار جو تنکے کے سہارے پہ کھڑی ہے
یوں ہی تو نہیں میرے چراغوں میں اجالا
اک روشنی سی دل کے فوارو سے جھڑی ہے
خانی یہ کہاں دیکھنے دیتی ہے کسی کو
جو گرد کسی آنکھ کے شیشے پہ پڑی ہے
ملک عرفان خانی