MOJ E SUKHAN

جس نے تم کو چاند کہا اور جس نے خوشبو جانا تھا

جس نے تم کو چاند کہا اور جس نے خوشبو جانا تھا
اس لڑکے کا نام بتاؤ کیا وہ بھی میرے جیسا تھا

جو کہتا تھا تم اچھی ھو اور تم سے اچھا کوئی نہیں
وہ لڑکا اب بھی سچا ھے اور پہلے بھی سچا تھا

اس کا جذبہ میرا جذبہ اور کتابیں ایک سی ھیں
باتیں کیسی کرتا تھا کیا طرز سخن بھی مجھ سا تھا

تم جب مجھ کو ملتی نہیں میں چاند سے باتیں کرتا ھوں
تم جب اس ملتی نہیں وہ چاند سے باتیں کرتا تھا

اکثر میں سوچتا ھوں اس روپ میں بھی تھا میں ھی تو
میں نے اس کو اتنا سوچا لگتا ھے جیسے دیکھا ھو

تاجدار عادل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم