MOJ E SUKHAN

جس نے تیری یاد میں سجدے کئے تھے خاک پر

Jis Nay teri Yaad main sajday kyee they khaak per

غزل

جس نے تیری یاد میں سجدے کئے تھے خاک پر
اس کے قدموں کے نشاں پائے گئے افلاک پر

واقعہ یہ کن‌ فکاں سے بھی بہت پہلے کا ہے
اک بشر کا نور تھا قندیل میں افلاک پر

دوستوں کی محفلوں سے دور ہم ہوتے گئے
جیسے جیسے سلوٹیں پڑتی گئیں پوشاک پر

مخملی ہونٹوں پہ بوسوں کی نمی ٹھہری ہوئی
سانس الجھی زلف بکھری سلوٹیں پوشاک پر

پانیوں کی سازشوں نے جب بھنور ڈالے فرازؔ
تبصرہ کرتے رہے سب ڈوبتے تیراک پر

طاہر فراز

Tahir Faraz

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم