MOJ E SUKHAN

جس کی عادت ہو سب بھُلا رکھنا

جس کی عادت ہو سب بھُلا رکھنا
اُس سے اُمّید کیا بھُلا رکھنا

میرے تو خون میں مُحبّت ہے
تُم مگر اپنا دل بڑا رکھنا

جو بھی حالات ہوں مِرے ہمدم
اپنے دل میں مِری جگہ رکھنا

مُشکلیں جس قدر بھی ہوں درپیش
تُم سُلُوک اپنا بس روا رکھنا

عیش و عشرت کی زندگی میں بھی
درد سے خُود کو آشنا رکھنا

ہو بھی جائے اگر اندھیرا ، تُم
دل کی شمع مگر جلا رکھنا

جانے کب لَوٹ آئے وہ “شہناز”
قلبِ مُضطر کا در کھُلا رکھنا

شہناز رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم