MOJ E SUKHAN

جشن مناؤ رونے والے گریہ بھول کے مست رہیں

غزل

جشن مناؤ رونے والے گریہ بھول کے مست رہیں
سارنگی کے تیر سماعت میں امشب پیوست رہیں

ایرانی غالیچے کے چو گرد نشستیں قائم ہوں
کافوری شمعوں سے روشن پیہم اہل ہست رہیں

کسوایا جائے گھوڑوں سے لکڑی کے پہیوں کا رتھ
طبل علم اسوار پیادے سارے بندوبست رہیں

رنگ سپید و سیاہ سنہری سب شکلوں میں ظاہر ہوں
آگ سے اپنی راکھ اٹھا کر سونا چاندی جست رہیں

نقارے پر چوٹ مراتب کا اعلان سناتی ہے
پھوس کی کٹیائیں مرمر کی دیواروں سے پست رہیں

ایک طرف کچھ ہونٹ محبت کی روشن آیات پڑھیں
اک صف میں ہتھیار سجائے سارے جنگ پرست رہیں

احمد جہانگیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم